مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

گھریلو زندگی کو خوشگوار بنائیں | بچوں کی پرورش

آپ اپنے نوجوان بچے سے کیسے بات کر سکتے ہیں؟‏

آپ اپنے نوجوان بچے سے کیسے بات کر سکتے ہیں؟‏

مسئلہ

جب آپ کا بچہ چھوٹا تھا تو وہ آپ کو اپنی ہر بات بتاتا تھا۔‏ لیکن اب وہ نوجوان ہے اور آپ کو کوئی بات نہیں بتاتا۔‏ جب آپ اُس سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ بس ہاں‌ہوں کرتا ہے۔‏ یا پھر وہ بحث کرنے لگتا ہے اور اِس طرح آپ کا گھر میدانِ‌جنگ بن جاتا ہے۔‏

مگر ہمت نہ ہاریں۔‏ آپ اِس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔‏ مگر کیسے؟‏ یہ جاننے سے پہلے آئیں،‏ دو ایسی باتوں پر غور کرتے ہیں جن کی وجہ سے یہ مسئلہ کھڑا ہوتا ہے۔‏

مسئلے کی وجہ

آزادی حاصل کرنے کی خواہش:‏ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نوجوان بچہ ایک ذمہ‌دار شخص بنے تو آپ کو اُسے آہستہ‌آہستہ زیادہ آزادی دینی چاہئے۔‏ اِس طرح وہ مشکلات کا سامنا کرنا سیکھے گا۔‏ بعض بچے ضرورت سے زیادہ آزادی کی خواہش کرتے ہیں جبکہ بعض والدین اپنے بچوں پر حد سے زیادہ پابندیاں لگاتے ہیں۔‏ رسا کشی کی یہ جنگ والدین اور بچوں کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔‏ جمیل جن کی عمر ۱۶ سال ہے،‏ کہتے ہیں کہ ”‏میرے والدین میری زندگی کا ہر فیصلہ خود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‏ اگر میرے ۱۸ سال کا ہونے کے بعد بھی وہ ایسا ہی کرتے رہے تو مَیں گھر چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔‏“‏ *

سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے:‏ چھوٹے بچوں کی نظر میں ایک بات یا تو صحیح ہوتی ہے یا پھر غلط۔‏ لیکن نوجوانوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور اِس لئے وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک بات کیوں صحیح یا کیوں غلط ہے۔‏ یوں وہ اچھے فیصلے کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر چھوٹے بچوں کے نزدیک یہ انصاف کی بات ہے کہ ”‏امی نے بسکٹ کے دو ٹکڑے کئے،‏ آدھا مجھے دیا اور آدھا بھائی کو۔‏“‏ لیکن نوجوانوں کے نزدیک انصاف کا معاملہ اِتنا آسان نہیں ہوتا۔‏ وہ جانتے ہیں کہ سب کے ساتھ برابری کا سلوک کرنے سے ہمیشہ انصاف نہیں ہوتا۔‏ چونکہ نوجوانوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے اِس لئے وہ مختلف معاملوں کو اپنی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔‏ اِس صورت میں ممکن ہے کہ اُن کی رائے اور آپ کی رائے میں اختلاف ہو اور اِسی وجہ سے وہ آپ سے اُلجھ پڑیں۔‏

آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏

اپنے بچے سے بات‌چیت کریں:‏ ایسے موقعے ڈھونڈیں جب آپ اپنے نوجوان بچے کے ساتھ گپ‌شپ کر سکتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر بعض والدین نے دیکھا ہے کہ اُن کا بچہ اُس وقت زیادہ کُھل کر بات کرتا ہے جب وہ مل کر گھر کا کام‌کاج کر رہے ہوں یا سفر کر رہے ہوں۔‏ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر بچہ والدین کے آمنےسامنے نہیں ہوتا بلکہ اُن کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہوتا ہے۔‏‏—‏پاک کلام کا اصول:‏ استثنا ۶:‏۶،‏ ۷‏۔‏

ہر بات پر بحث نہ کریں:‏ اپنی ہر بات منوانے کے لئے بچے کے ساتھ بحث نہ کریں۔‏ اِس کی بجائے چند جملوں میں بچے کو اپنی بات بتائیں اور پھر اُس معاملے پر زیادہ بات نہ کریں۔‏ شاید اُس وقت آپ کو لگے کہ بچے نے آپ کی بات کو اَن‌سنا کر دیا ہے لیکن ممکن ہے کہ وہ اکیلے میں آپ کی بات پر غور کرے اور آخرکار اِسے مان جائے۔‏ لہٰذا بچے کو سوچنے کا موقع دیں۔‏‏—‏پاک کلام کا اصول:‏ امثال ۱:‏۱-‏۴‏۔‏

بچے کی بات کو غور سے سنیں:‏ جب آپ کا بچہ بات کر رہا ہو تو اُس کی بات کو نہ کاٹیں بلکہ پوری توجہ سے سنیں۔‏ یوں آپ مسئلے کو پوری طرح سے سمجھ پائیں گے۔‏ بچے کو جواب دیتے وقت سمجھ‌داری سے کام لیں۔‏ اگر آپ اُس پر حد سے زیادہ سختی کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کی پیٹھ پیچھے آپ کی مرضی کے خلاف کام کرے۔‏ اِس سلسلے میں کتاب اپنے بچوں کے قریب رہیں ‏(‏انگریزی میں دستیاب)‏ میں لکھا ہے:‏ ”‏ایسی صورتحال میں بچہ دو طرح کی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔‏ ایک طرف تو وہ اپنے ماں‌باپ کے سامنے اُن کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے لیکن دوسری طرف اُن کی پیٹھ پیچھے اپنی من‌مانی کر رہا ہوتا ہے۔‏“‏‏—‏پاک کلام کا اصول:‏ فلپیوں ۴:‏۵‏۔‏

غصہ نہ کریں:‏ ایک ۱۷ سالہ لڑکی جن کا نام آمنہ ہے،‏ کہتی ہیں:‏ ”‏جب میری امی اور مَیں کسی بات پر متفق نہیں ہوتے تو پھر چاہے مَیں کچھ بھی کہوں،‏ وہ بُرا مان جاتی ہیں۔‏ مجھے یہ اچھا نہیں لگتا اور یوں ہماری بات‌چیت بحث میں بدل جاتی ہے۔‏“‏ اپنے نوجوان بچے پر غصہ نہ کریں بلکہ اُس سے ایسے لہجے میں بات کریں جس سے ظاہر ہو کہ آپ اُس کے جذبات اور احساسات سمجھتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر یہ نہ کہیں:‏ ”‏اِس میں پریشان ہونے والی تو کوئی بات نہیں ہے۔‏“‏ اِس کی بجائے یہ کہیں کہ ”‏مَیں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ اِس وجہ سے کتنے پریشان ہو۔‏“‏‏—‏پاک کلام کا اصول:‏ امثال ۱۰:‏۱۹‏۔‏

بچے پر حکم نہ چلائیں بلکہ اُس کی رہنمائی کریں:‏ نوجوانوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ایک لحاظ سے پٹھوں کی طرح ہوتی ہے۔‏ ایک شخص اپنے پٹھوں کو جتنا زیادہ استعمال کرے گا،‏ اُس کے پٹھے اُتنے ہی مضبوط ہوں گے۔‏ لہٰذا جب آپ کے بچے کو کسی مسئلے کا سامنا ہو تو مسئلے کو خود حل کرنے کی بجائے بچے کو موقع دیں کہ وہ اِس کا حل نکالے۔‏ بچے کے ساتھ مل کر مسئلے پر بات کریں اور اُس سے پوچھیں کہ اُس نے مسئلے کو حل کرنے کے لئے کون‌سے طریقے سوچے ہیں۔‏ اِس کے بعد اُسے کچھ اَور طریقے بھی بتائیں۔‏ اُس سے کہیں کہ ”‏کچھ دن اِن سارے طریقوں پر غور کرو۔‏ پھر مجھے بتانا کہ اِن میں سے اچھا طریقہ کون‌سا ہے؟‏ اور آپ کو کیوں لگتا ہے کہ یہ طریقہ سب سے اچھا ہے؟‏“‏‏—‏پاک کلام کا اصول:‏ عبرانیوں ۵:‏۱۴‏۔‏

^ پیراگراف 7 اِس مضمون میں نام بدل دئے گئے ہیں۔‏